Baloch Qoom pdf urdu book

Baloch Qom, No Abadiati Ehad pdf Urdu Book written by Shah Muhammad Muree.








پیش لفظ

کب کسی سنجیدہ بلوچ نے یہ دعویٰ کیا کہ بلوچ کبھی کسی کے غلام نہ رہے۔ یا یہ کہ بلوچ قوم کبھی بھی کسی بیرونی طاقت سے تسخیر نہ ہوئی؟
اصل بات یہ ہے کہ ہم دنیا کی دیگر قوموں کی طرح زندہ لوگ رہے ہیں۔ ہم پہ حملے بھی ہوتے رہے ہیں، ہم پہ قبضے بھی ہوتے رہے ہیں، ہم ٹکڑوں میں کبھی ایک سلطنت سے نتھی رہے، کبھی دوسرے سے۔ ہم بھی کبھی غربت میں ، اور کبھی کبھی مستی میں کسی کی فصل میں اپنے مویشی چھوڑتے رہے ہیں۔ اور یہ سب فخر کی باتیں نہیں ہیں۔
جس بات پہ فخر کرنا چاہیے وہ یہ ہے، کہ زور آوروں سے ہماری زبردستی والی یہ نتھی گیری ہمیشہ بہت ہی کمزور اور بہت ڈھیلی ڈھالی تھی۔ اور فخر کی دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے قابض کو امن سے رہنے کبھی نہ دیا۔ ہم جنون کی حد تک اپنی آزادی سے محبت میں، قبضہ گروں سے مستقل لڑتے رہے ہیں۔ مزاحمت کا شعلہ بلوچستان میں کبھی نہ بجھا۔ محض اس پہاڑ سے اس پہاڑ اور اس موسم سے اس موسم میں وہ منتقل ہوتا رہا۔ فخر کی تیسری بات یہ ہے کہ اب سب کو سمجھ آچکا کہ ہم احترام، برادری اور برابری کے ساتھ رہ سکتے ہیں، طاقت کے زور پہ نہیں۔ بس، بلوچ پالتو نہیں بن سکتا۔
نوجوان نسل کو ایک طرف ہمیشہ یہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے قصہ گوؤں کا خیال رکھے۔ مگر یہ بھی سخت ضروری ہے کہ وہ ماضی کو کھلی آنکھوں سے، بصیر آنکھوں سے دیکھے۔ کیونکہ ماضی سے اندھے لوگ، مستقبل میں نابینائی ہی میں داخل ہوتے ہیں۔ اور یہ حتمی بات ہے کہ بلوچ مطالعہ اور شعور میں نابینا لوگوں کو اپنا مستقبل کبھی نہ دیں گے۔
انگریز کو غلط طور پر عقل مند، منصوبہ بند، زیرک، کامیاب عوامی نباض، دور اندیش، اور کبھی کبھی تو ولی اللہ تک مشہور کر دیا گیا ہے۔ مگر ہمارے ہاں تو ان سب کے بارے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ انہیں یہ تک پتہ نہ تھا کہ گیدڑ، جو شام کو آبادی کے قریب باجماعت آوازیں نکالتے ہیں، یہ ان کی خصلت و عادت ہے، یا انہیں بھوگ لگی ہوئی ہے۔ اور پھر صاحب کے حکم پہ ان کے لیے جا کر غلہ اور خوراک رکھا گیا تھا۔





ایک بڑی بات البتہ یہ ہے کہ جس وقت بلوچوں کا یورپ سے مزاحمت کار کے کے طور پر تعلق بنا تو یورپ کے اندر سائنس و چرچ کی چپقلس میں (سیکڑوں سائنس دانوں کو اذیتیں دے دے کر مار دینے کے بعد) بالآخر سائنس، چرچ کو شکست دے چکی تھی۔ اب حتمی طور پر وہاں عقل و خرد، تحقیق و ریسرچ اور سائنس و ٹکنالوجی کی حکمرانی قائم ہو چکی تھی۔
مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سائنس کی آزادی نے روشن فکری کو جتنی ترقی دی، بہ یک وقت وہاں ٹیکنالوجی شیطان صفتوں کے ہاتھ بھی لگی۔ یو ں یورپ باؤلے سفاک لٹیرے کے بطور "بحری سواری" اور "بندوق" کی اپنی بر تر ٹیکنالوجی کے کندھوں پر سوار ہمارے ساحلوں پہ لوٹ مار اور آتش زنی میں مصروف ہو گیا۔ یہیں ہم نے دیکھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی اگر ایک طرف پوری انسانیت کے لیے نعمت ہے تو دوسری طرف یہ عوام الناس پر استحصالی شکنجوں کو ناقابل تسخیر بناتے ہیں۔
چنانچہ لٹیرا، انسانی آبادیوں کے ریوڑوں میں گھس چکا تھا۔ بے دردی سے لوٹتا گیا اور غنیمت کا مال مغرب منتقل کرتا گیا۔ ہمارا مشرق کا سماج اتھل پتھل ہوتا گیا۔ بلوچ نے صرف ایک انسانی خصلت برقرار رکھی: سامراجی حملہ آور کی مزاحمت۔ اس کام میں ہم برباد بھی بہت ہوئے مگر تفاخر کا ایک ٹھنڈا جھونکا دائمی طور پر ہماری آنے والی نسلوں کے دلوں کو مسرت سے بھرتا رہے گا۔ کہ ہم انسان ہیں۔
ہاں، انگریز کے آنے سے ریلوے آئی، انگلش زبان آئی اور تار، ٹیلی گراف اور ڈاک خانہ آیا۔ انگریز نے ہماری کلاسیکل شاعری اکٹھی کر کے چھاپ دی۔ اس نے بارہ جلدوں پر مبنی  گزٹیئر لکھے اور چھاپے۔ بے شمار مواد دیا جس سے ہم اپنی تاریخ کی گم کڑیاں ملاتے رہے۔ مگر کس قیمت پہ، یہ ہم جانتے ہیں یا ہمارا خدا جانتا ہے۔
اس سامراجیت کا اثر ساری دنیا پر پڑا۔ معاشی طور پر بھی، مگر ساتھ میں سیاسی طور پر بھی۔
ماضی بعید سے تسلسل میں چلتی بلوچ کی حالیہ تین صدیوں پر مشتمل مزاحمتی تاریخ اگر ایک طرف خون، لاشوں، آہوں، تباہیوں اور سماجی ارتقا و ترقی پر لگی بریکوں سے لتھڑی ہوئی ہے تو دوسری طرف وطن دوستی، مزاحمت اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانے کی خصوصیات سے مزین ہے۔ بلوچستان اپنی جغرافیائی دولت کے دفاع میں کود بھی برباد ہوا اور اس کے بیٹے بھی غاروں کے سماج سے آگے نہ بڑھے ۔ مستقبل بھی شاید اسی شاہراہ کا ہے۔ حملہ آور شکل، زبان اور مذہب بدل بدل کر آئیں گے مگر بلوچستان کی سر زمین اور اس کے باسی یہیں ان سے لڑتے رہیں گے۔
کون جانے انجام کیا ہو۔ ہماری معدنی اور سمندری دولت اور ہمارا محل وقوع ہم سے کب تک، اور کیا کیا خراج مانگتے رہیں گے۔ لیکن حتمی ہے کہ بلوچ آبا و اجداد کی راہ پر ہی چلے گا۔ یہ بہت ہی طاقت ور معاشی جغرافیائی اسباب انسانی خصائل و اخلاقیات اور روایات سے مل کر انسان سے اپنی مرضی ہی کرواتے رہیں گے۔ ہم بہت دیر تک بے آرام، مگر باوقار رکھے جائیں گے۔







Or


Read Online