Islam aur Jadogari pdf Book free download

Islam and Magic


Islam Aur Jadogari, Islam, and Magic is a stunning instructive pdf book formed by Mr. Rehman Muznib. He is an exceptional Pakistani investigator, Urdu writer, mediator, intellectual and Urdu writer. His certified name is Mufti Aziz Ur Rehman. As the title of book Islam aur jadogari exhibits it is about Islam and charm. The maker depicts in detail the chronicled setting of charm, employment of charm in explicit religions, the essential entertainer of the world, the universe of charm, the charm of digits, etc.





اسلام اور جادو

 سحر و طلسم کو سمجھنے اور سمجھانے میں علمائے بشریات اور ماہرین آثاریات کو عمریں صرف کرنی پڑیں۔ ہزاروں سال پرانی دستاویزیں، عبادت گاہوں کے نقش و نگار، در و دیوار کی علامتی تصاویر، فرش و عرعش کی پراسرار تحریرں، لاٹھوں اور خشت و سنگ پر کندہ عبارتیں ایسی صاف ستھری اور تازہ ہین جیسے مصور اور خوش نویس ابھی ابھی اپنے اپنے قلمدان، قلم اور مو قلم سنبھال کر کارگاہ سے رخصت ہوئے ہوں لیکن جب عہد حاضر میں انہیں پڑھنے والے آئے تو ان پر پڑے ہوئے بوجھل پردے دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہو گئے۔ ایک لکیر ، ایک تصویر، لفظ کا ایک شوشہ بھی تو سمجھ میں نہ آیا۔کیسی عجیب بات ہے جو زبانیں صدیوں دنیا میں رائج رہیں، عظیم القدر علوم و فنوں ، تہذیبوں اور ثقافتوں کی امین رہیں ، اپنے پیچھے ان مٹ نقوش چھوڑ گئیں، یو غائب ہوئیں کہ انہیں ایک بھی بولنے والا نہ رہا۔ ہائرو گلیفکس اور خشتی میخی خط کو جاننے پہچاننے والا کوئی نہ تھا۔ پھر یہ زبانیں اور ان کی پر اسرار تحریریں کیسے پڑھی اور سمجھی گئیں؟ ان کی ایک لگ کہانی ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ برسوں کچھ دیوانے رات دن آنکھیں پھوڑتے رہے ۔ انہوں نے رتجگوں پر رتجگے کئے۔ کام ہی کام، ہر لحظ ہمت شکنی، بے چارے پاگل ہو ہو گئے، لیکن پھر بھی اپنے مشن سے دستبردار نہ ہوئے ان کے اندر ذوق و شوق کی جوالا مکھی جلتی ہی رہی۔ انہتائی لگن سے ناقابل فہم حروف و نقوش کو پڑھنے کے لیے دیدہ ریزی کرتے رہے، چوچتے رہے، آخر خدا خدا کر کے مشکل آسان ہوئی۔ نقوش مسکرانے لگے، لفظ بولنے لگے۔ سب کچھ قابل فہم ہو گیا ور پھر ایسا مرحلہ آیا کہ مقاہیم و مطالب کے سلسلے میں یہ سر پھرے باہم بحث و مباحثہ بھی کرنے لگے۔
ایسے ہی چند دیوانے آج کل ہڑپہ اور موہنجودڑو کے کھنڈروں میں بکھری ہوئی تہذیب کی گمشدہ زبان کو سمجھنے کے لیے سر کھپا رہے ہیں۔
تحقیق و تفتیش کے سلسلے میں گڑے مردے بھی اکھارے گئے، محاورتاً نہیں، سچ مچ، اتنا ہی نہیں بلکہ مردوں میں جان ڈالی گئی، انہیں زبان دی گئی اور پھر ان سے ہزاروں سال پرانےتہذیبی و ثقافتی مخفی راز اگلوائے گئے۔ روزمرہ کی باتیں معلوم کی گئیں۔
اس طویل کاوش کا ثمر ، ہزاروں مردے جو اکھاڑے گئے آج وہ حنوظ شدہ لاشوں کی صورت میں دنیا کے بڑے بڑے عجائب خانوں کا بے بہا اثاثہ ہیں۔ اگر چہ انتہائی اہم مخفی صورتیں پردے پھاڑ کر سامنے آگئی ہیں تاہم کام ابھی تمام نہیں ہوا۔ایک ایک مردے نے معلومات کے ڈھیر لگا ددیے ہیں۔ اس کے سامنے زندہ لوگ گنگ ہو گئے ہیں۔ اہرام کے تاریک تہ خانوں سے علم کے جو خزانے ملے، ان کی بدولت جو گھتیاں سلجھیں، دینی افکار عیاں ہوئے، علمی و فنی فتوحات ہوئیں، ان کی تفصیل ایک نہایت ہی عام لفظ جادو میں سما جاتی ہے۔
مصر، عراق، شام اور ہند تو اس کے گڑھ تھے، لیکن دنیا کا کوئی ایسا خطہ نہیں ملے گا جہاں جادو کا سکہ رواں نہ تھا۔ایشیا اور افریقہ ہی نہیں جدید آسٹریلیا میں بھی اوائلی دور کے ایسے قبائل پائے جاتے ہیں جو ہزاروں سال پرانی کینچلی اتارنے کے لئے تیار نہی۔
جادو کی تشریح و توضیح کے لیے سوشل اینتھروپولوجی کے جید علماء۔ ۔۔ بابائے بشریات سر جیمز ہنری بریسٹیڈ، آئی ای ایس ایڈورڈز، جارج بی ویٹر، ڈبلیو بی ایمرے اور دیگر حضرات نے بڑا کام کیا ہے، ان کی توجیہات، تصریحات اور انکشافات حیرت خیز بھی ہیں اور نئے بھی، ان کی کوششوں سے نہایت مربوط دینی تاریخ مرتب ہوئی ہے۔ انگریزی میں جادو کا لفظ جس قدر واضح ہے اردومیں اسی قدر اجنبی ہے۔ ہمارے یہاں گنتی کے چند لوگ ملیں گے جنہیں اس سے سچا شغف ہو۔ حالانکہ ہر دانشور کو بالعموم اور عالم دین نیز مبلغ اسلام کو بالخصوص اس کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ مطالعہ نہ صرف لابدی بلکہ نہایت دلچسپ علم و دانش سے بھرپور اور فکر انگیز ہے۔ سوشل اینتھروپولوجی، جادو جس کا ایک شعبہ ہے قطعاً خشک موضوع نہیں۔
اس لفظ کے گرانقدر تہذیبی ، ثقافتی اور علمی و فنی سرمایے کے پیش نظر میں اسے دین ساحری  کہتا ہوں۔ اس کی عظمتیں کارنامے اور فتوحات حیران کن ہیں، صدیوں ناقابل شکست رہا۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت موسٰیؑ نے مزاحمت تو کی لیکن اس کا ڈنکا بجتا ہی رہا۔ آخر 571 عیسوی میں و آفتاب طلوع ہوا۔ جس نے اسے گہنا دیا، اس کے تاروپود بکھیر دیئے۔ نسل انسانی جادو کے بندھن سے آزاد ہوئی۔ دنیاکو نیا حسن و جمال دیا۔ آدمی کو قدر عافیت معلوم ہوئی اسے نئی پہچان ملی، خالق اور مخلوق کا صحیح رشتہ دریافت ہوا۔
میرے نقطہ نظر سے دین ساحری کا جس قدر مطالعہ کیا جائے گا اسی قدر اسلام کی سچائی اور بڑائی کا ادراک ہوگا۔ اس طرح اسلام کی سچائی اور بڑائی کے لیے بڑا عمدہ حوالہ مل جائے گا۔





اس کتاب کو ڈاؤنلوڈ کرنے کے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔

Download